نشے کی جھونک میں آنکھوں کو مَل دیا سرِ شام
وہ کوئی خواب تھا جس کو کچل دیا سرِ شام
سحر کے بعد جسے جاگنا تھا میرے ساتھ
وہ مثلِ مہر بجھا اور چل دیا سرِ شام
گماں تھا بامِ اُفق تک رسائی ممکن ہے
کسی نے میرے یقیں کو مَسل دیا سرِ شام
سیاہ رات، ستارے، گرفتگی دل کی
چراغِ صبح نے کیا کیا اُگل دیا سرِ شام
کسی ستارہ بداماں کی آمد آمد تھی
تو مَیں نے گیت کو رنگِ غزل دیا سرِ شام
سفر کی رات قریب آ رہی تھی جب ساجدؔ
تو مَیں نے اپنا ارادہ بدل دیا سرِ شام
